17 مئی 2012 - 19:30

سعودی عرب كے ساتھ بحرين كے الحاق كی خاطر دونوں ممالك كے درميان جو معاہدہ طے پايا ہے بحرين كے تمام بنيادی وزارتخانوں من جملہ ؛ وزارت دفاع ، وزارت داخلہ اور قومی سلامتی كے ادارے میں نافذ كر ديا گيا ہے اوراب اس كے بعد سعودی عرب نے اسی معاہدے كے ذريعے امارات كوبھی اپنے ساتھ ملانے كی كوششوں كا آغاز كر ديا ہے ۔

ابنا: بحرين میں حكومت مخالف الائنس كے ركن "قاسم ہاشمی" نے كہا ہے كہ رياض میں منعقد ہونے والی نشست كا ہدف سعودی عرب اور بحرين كے درميان معاہدوں پر اتفاق رائے نہیں تھا كيونكہ یہ مسئلہ پہلے سے ہی طے ہو چكا ہے بلكہ اس كا اصلی ہدف كانفرنس میں پيش كیے گئے مسائل پر خليج تعاون كونسل كے ركن ممالك میں عوامی ردعمل كا جائزہ لينا تھا ايسے مسائل جن سے ديگر ممالك بھی دوچار ہونگے اور سعودی عرب كو ان پر قبضہ جمانے كا موقع فراہم ہوگا ۔

انہوں نے واضح كيا ہے كہ مذكورہ كانفرنس كا مقصد سعودی عرب اور بحرين كے درميان ۸ اپريل كو ہونے والے معاہدے پر پردہ ڈالنا تھا جس كے مطابق بحرين كی باگ ڈور مكمل طور پر سعودی عرب كے ہاتھوں میں منتقل ہو جائے گی ۔ ........

/169